والدین ماجدینآپ کے والد ماجد ساتویں امام باب الحوائج حضرت موسیٰ بن جعفر علیہما السلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون ہیں جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ماجدہ ہیں۔ (1)ولادت تا ہجرتحضرت معصومه سلام الله علیها(2) نے یکم ذی القعدہ ۱۷۳ ء ھ کو مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰ (3) یا بارہ۱۲ (4) ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کردیا۔اس عظیم القدر سیدہ نے ابتدا ہے سے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں والدین اور بہن بھائی سب کے سب اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ تھے۔ عبادت و زہد، پارسائی اور تقوی، صداقت اور حلم، مشکلات و مصائب میں صبر و استقامت، جود و سخا، رحمت و کرم، پاکدامنی اور ذکر و یاد الہی، اس پاک سیرت اور نیک سرشت خاندان کی ابھری ہوئی خصوصیات تھیں۔ سب برگزیدہ اور بزرگ اور ہدایت و رشد کے پیشوا، امامت کے درخشان گوہر اور سفینہ بشریت کے ہادی و ناخدا تھے۔علم و دانش کا سرچشمہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جو علم و تقوا اور اخلاقی فضایل کا سرچشمہ تھا۔ آپ سلام اللہ علیہا کے والد ماجد حضرت موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ علیہ السلام کے فرزند ارجمند حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ امام رضا علیہ السلام کی خصوصی توجہات کی وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلی علمی اور معنوی مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کی وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے۔ابن صباغ ملکی کہتے ہیں: "ابوالحسن موسی المعروف "کاظم" کے ہر فرزند کی اپنی ایک خاص اور مشہور فضیلت ہے۔"اس میں شک نہیں ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزندوں میں حضرت رضا علیہ السلام کے بعد علمی اور اخلاقی حوالے سے حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی اور اخلاقی مقام سب سے اونچا ہے۔ یہ والا مقام حضرت سیدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے میں ائمہ کی زبان مبارک سے بیان ہونے والی تعاریف و توصیفات سے آشکار ہے۔ اور اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ معصومہ بھی ثانی زہرا حضرت زینب کی مانند "عالمہ غیر مُعَلَّمہ" ہیں۔ (عالمہ ہیں مگر ان کا استاد نہیں ہے اور علم انہیں کسی نے سکھایا نہیں ہے)۔فضایل کا مظہرحضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا فضائل و مراتب و مقامات عالیہ کا مظہر ہیں۔ معصومین علیہم السلام کی روایات آپ سلام اللہ علیہا کے لئے نہایت اونچے مقامات و مراتب کی دلیل ہیں۔روى القاضى نور اللّه عن الصادق عليه السلام قال:ان للّه حرماً و هو مكة ألا انَّ لرسول اللّه حرماً و هو المدينة ألا و ان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة باجمعهم۔(5)قاضی نور الله رحمه روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "جان لو کہ خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے؛ اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے؛ اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے۔ جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کی آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں۔ میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے"۔حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا علمی مقامحضرت معصومہ سلام اللہ علیہا عالم تشیع کی نہایت گرانقدر اور والا مقام خاتون ہیں جن کا علمی مقام بہت اونچا ہے۔روایت ہے کہ ایک روز شیعیان محمد و آل محمد صلی الله علیه و آله و سلم کا ایک گروہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ملاقات کے لئے مدینہ منورہ مشرف ہؤا۔ چونکہ امام علیہ السلام سفر پر تشریف لے گئے تھے اور یہ لوگ آپ علیہ السلام سے سوالات پوچھنے آئے تھے لہذا انہوں نے اپنے سوالات حضرت فاطمہ معصومہ کے سپرد کئے – جو ابھی نوعمر بچی ہی تھیں – یہ لوگ دوسرے روز ایک بار پھرامام علیہ السلام کی در گاہ پر حاضر ہوئے مگر امام علیہ السلام ابھی نہیں لوتے تھے؛ چنانچہ انہوں نے اپنے سوالات واپس مانگے۔ مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ سیدہ معصومہ نے ان کے جوابات بھی تحریر کر رکھے تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنے سوالات کے جوابات کا مشاہدہ کیا، بہت خوش ہوئے اور نہایت تشکر اور امتنان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اتفاق سے راستے میں ہی ان کا سامنا امام موسی کاظم علیہ السلام سے ہؤا اور انہوں نے اپنا ماجرا امام علیہ السلام کو کہہ سنایا۔ امام علیہ السلام نے سوالات اور جوابات کا مطالعہ کیا اور فرمایا: باپ اس پر فدا ہو - باپ اس پر فدا ہو - باپ اس پر فدا ہو۔قم کی تقدس کا رازمتعدد احادیث میں قم کے تقدس پر تأکید ہوئی ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے قم کو اپنا اور اپنے بعد آنے والے اماموں کا حرم قرار دیا ہے اور اس کی مٹّی کو پاک و پاکیزہ توصیف فرمایا ہے:۔امام علیہ السلام فرماتے ہیں : "الا انَّ حرمى و حرم ولدى بعدى قم"(6)آگاہ رہو کہ میرا حرم اور میرے بعد آنے والے پیشواؤں کا حرم قم ہے۔امام صادق علیہ السلام ہی اپنی مشہور حدیث میں اہل رے سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔۔۔ وان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم۔۔۔ = اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے۔ جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں۔امام علیہ السلام قم کے تقدس کی سلسلے میں اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: "۔۔۔ تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة با جمعهم = میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ بنت موسی ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہماری تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے"۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی۔ یہ حدیث قم کے تقدس کا پتہ دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف – جو روایات سے ثابت ہے - ریحانہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس سرزمین میں شہادت پاکر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنادیا ہے۔سیده نے بهی قم کا انتخاب کیاامام رضا علیہ السلام کے مجبورا شہر مرو سفر کرنے کے ایک سال بعد ۲۰۱ھ قمری میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے قصد سے عازم سفر ہوئیں راستہ میں ساوہ پھنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہلبیت کے مخالف تھے لہٰذا انہوں نے حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑدی جس کے نتیجے میں قافلے میں سے بہت سارے افراد شہید ہوگئے(7)حضرت غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور ایک روایت کی مطابق ساوه میں ایک عورت نے آپ کو مسموم کردیا (8) جس کی وجه سے آپ سلام اللہ علیہا بیمار پڑ گئیں اور محسوس کیا کہ اب خراسان نہ جاسکیں گی اور اب زیاده دیر تک زنده بهی نہیں رہیں گی چنانچہ فرمایا : مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔ (9) اس طرح حضرت وہاں سے قم روانہ ہوگئیں۔دشمنان اہل بیت کا اس قافلے سے نبرد آزما ہونا اور بعض حضرات کا جام شہادت نوش فرمانا اور وہ دیگر نامساعد حالات ایسے میں حضرت کا حالت مرض میں وہاں سے سفر کرنا، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا بعید نہیں ہے کہ سیده معصومه سلام اللہ علیہا بهی عباسی جلادون کی حکم پر مسموم کی گئی تِہیں۔بزرگان قم جب اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوئے تو حضرت کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے، مویٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ صلی الله علیه و آله و سلم اہل قم کے عشق اہلبیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں۔ موسیٰ بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا۔ (10)غروب غمگینبی بی مکرمہ نے ۱۷ دن اس شہر امامت و ولایت میں گزارے، مسلسل مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخری ایام بھی خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے۔ آخر کار وہ ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں لقاء الله کے لئے بے قرار روح قفس خاکی سے بسوئے افلاک پرواز کرگئی۔ سیده نے دعوت حق کو لبیک کہی اور عاشقان امامت و ولایت عزادار ہوگئے۔یہ سنہ 201 ہجری کا واقعہ ہے۔ سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک۔سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سرزمین کو نورانیت بخشی۔ سلام ہو دنیا کی خواتین کی سیدہ سلام اللہ علیہا، مہر محبت کے پیامبروں کی لاڈلی پر، دختر سرداران جوانان جنت پر۔اے فاطمہ! روز قیامت ہماری شفاعت فرما، کہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام و منزلت کی مالک ہیں۔ہاں بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقیقی پیشواؤں کی حقانیت کے سلسلے میں امامت کی سند پیش کردی اور مأمون کے چہرے سے مکر و فریب کی نقاب نوچ لی۔ قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت از بام کردیا۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا۔ اسی اثناء میں تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے انصافی کے خلاف قیام کا بہترین نمونہ اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لئے ایک الہام الٰہی قرار پائے۔ آپ سلام اللہ علیہا جیسوں کی موت شہادت نہ ہو تو کیا ہو؟آپ سلام اللہ علیہا نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اور محبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کردیا کہ ہر زمانے میں حقیقی اور خالص محمدی اسلام کے تربیت یافتہ جیالوں نے مادی و طاغوتی طاقتوں کے سامنے حق کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا ” انی استصغرک “ (11) میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں۔تدفین کی رسوماتش
20 فروری 2013 - 20:30
News ID: 393024
تاریخ دوسری فاطمہ کا انتظارکررہی ہے۔ انتظار کی گھڑی گذرجاتی ہے اور خانہ خورشید بھینی بھینی خوشبو سے بھرجاتا ہے۔ فاطمہ کے حضور جدید کی ٹھنڈک مدینہ کی فضاؤں پر چھا جاتی ہے اور کوثر سیدہ، وہی چشمہ کوثر پھوٹنے لگتا ہے۔ میں آپ کے حرم کے باغوں میں پناہ لیتا ہوں اور قدرے اس ملکوتی سائے میں سستا لیتا ہوں۔ نہر استجابت کے کنارے بیٹھ جاتا ہوں اور خود ایک قطرہ بن جاتا ہوں اور آپ کے زائرین کے اشکوں کے دریا کے شفاف پانیوں میں آپ کے ضریح مقدس کو عقیدت کے پھولوں کی مالا پہنا دیتا ہوں اور اس کے روزنوں میں سے آپ کی قبر مطہر کا نظارہ کرتا ہوں۔ یقین نہیں آتا! کیا میں اتنی آسانی سے آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہؤا ہوں! جبکہ آپ کی زیارت کوثر مدینہ کی گمشدہ بی بی کی زیارت کے ہم رتبہ ہے۔ !